ٹیسٹ کرکٹر کامران اکمل قومی ٹیم میں شامل نہ کیے جانے پر نالاں

قومی ٹیم کے ٹیسٹ کرکٹر کامران اکمل کا کہنا ہے کہ پرفارمنس کے باوجود ٹیم میں سلیکشن نہ ہونے سے بہت مایوسی ہوتی ہے، 5 سال سے جس طرح کا سلوک میرے ساتھ کیا جا رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔

وکٹ کیپر بیٹسمین کا کہنا ہے کہ میرا کام یہی ہے کہ میں اپنی ٹیمز کی جانب سے پرفارمنس دکھاتا رہوں اور فٹنس برقرار رکھوں۔

انہوں نے کہا کہ میری موجودہ مینجمنٹ سے تفصیلی بات چیت ہوئی ہے، بہت پازیٹو رسپانس ملا ہے، مجھے امید ہے انگلینڈ ٹور کے بعد جس بھی ٹیم کا اعلان ہوگا اس میں موقع ملے گے۔

کامران اکمل نے کہا کہ اچھا بیٹسمین ہونے کی وجہ سے دنیا کی ٹیموں میں تین تین وکٹ کیپر بھی کھیلے ہیں یہ سوچ کر سلیکشن نہ کی جائے کہ دو وکٹ کیپر ہوگئے ہیں تیسرے کو شامل نہیں کیا جا سکتا تو یہ زیادتی ہوگی ۔

انہوں نے کہا کہ بہت ضروری ہے، ایس او پیز کے ساتھ اپنی پروفیشنل لائف کو جاری رکھیں، لاک ڈاؤن کے دوران بھی احتیاطی تدابیر کے ساتھ ٹریننگ کر رہا ہوں کیونکہ ایک کھلاڑی کے لیے ٹریننگ کے بغیر رہنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

وکٹ کیپر یبٹسمین کا کہنا تھا کہ ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا شیڈول کے مطابق انعقاد مشکل نظر آرہا ہے، انگلینڈ کی ویسٹ انڈیز اور پاکستان کے خلاف سیریز دنیائے کرکٹ کے لیے بہت اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیم کے انگلینڈ دورے سے آئیڈیا ہو جائے گا کہ ایس او پیز کے ساتھ کرکٹ کیسے شروع کرنی ہے، وہی ایس او پیز ڈومیسٹک کرکٹ میں اپلائی کرکے شروع کی جا سکتی ہے، کھلاڑیوں ،میچ آفیشلز ،فینز سب کی سیفٹی بہت ضروری ہے، کرکٹ میں بھی حکومتی ایس او پیز پر عمل کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

وکٹ کیپر بیٹسمین نے کہا کہ دورۂ انگلینڈ سے قبل قومی اسکواڈ کی کورونا ٹیسٹنگ ایک احسن اقدام ہے، سیریز سے پہلے ٹیسٹنگ ہونے سے کھلاڑی ریلیکس ہو جائیں گے اور پھر کرکٹ پر فوکس کریں گے ۔ ٓئی سی سی کے نئے قوانین کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنا ہوگا۔

کامران اکمل کاکہنا تھا کہ انگلینڈ ویسٹ انڈیز سیریز سے کھلاڑیوں کو کافی چیزیں جانچنے کا موقع مل جائے گا، تمام کھلاڑی تین چار ماہ سے فزیکل ٹریننگ کے علاوہ کچھ نہیں کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ دورہ انگلینڈ کے لیے قومی ٹیم کی مینجمنٹ بہت زبردست ہے، مینجمنٹ اور کوچز کو بھی چاہیے کہ وہ کھلاڑیوں کا فوکس اب کرکٹ پر لے کر آئیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں