دماغی طور پر مضبوط کرنے کیلئے بچوں کو سبزیوں کی طرف راغب کریں: امریکی تحقیق

نیو یارک: (نور نظر نیوز) امریکی تحقیق، جو جرنل آف نیوروسائنس میں شائع ہوئی ہے، کے مطابق اگر آپ اپنے بچوں کو دماغی طور پر قوی بنانا چاہتے ہیں تو انہیں سبزیوں کی طرف راغب کیجئے، بالخصوص ہرے پتوں والی سبزیوں کو نظرانداز نہ کیا جائے۔

یونیورسٹی آف پینسلوانیا کے سائنسدانوں نے 8 سے 24 برس کے 1500 بچوں اور نوعمروں کے دماغوں پر غور کیا ہے۔ نتیجہ برآمد ہوا کہ جن بچوں میں فولاد کی کمی تھی دماغی مشقوں اور ٹیسٹ میں ان کی کارکردگی دیگر کے مقابلے میں ناقص رہی۔

سائنس شواہد کی بنیاد پر کہتی ہے کہ جسم میں فولاد جاکر آخر کار خلیات (سیلز) میں جمع ہوجاتی ہے۔ فولاد دماغی اور جسمانی کارکردگی کے لئے بہت ضروری ہوتی ہے۔ مثلاً منطقی اور عقلی معاملات میں فولاد کی مناسب جسمانی مقدار اہم کردار ادا کرتی ہے۔

ہرے پتوں والی سبزیوں میں فولاد کی غیرمعمولی مقدار پائی جاتی ہے جن میں پالک، شاخ گوبھی اور سلاد سرِ فہرست ہیں۔ تحقیق یونیورسٹی کے پروفیر ڈاکٹر بارٹ لارسن نے کی ہے۔

انہوں نے مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک بچہ 20 سال کی عمر تک نہ پہنچ جائے اسے فولاد سے بھرپور غذائیں دی جائیں یا پھر آئرن سپلیمنٹ دیئے جائیں۔ دنیا میں دوارب سے زائد افراد میں فولاد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ بچے ہوں یا بڑھے فولاد کی کمی سے دردِ سر، کمزوری، چکر، جلد کی پیلی رنگت اور سینے میں درد جیسی کیفیات پیدا ہوتی ہیں۔ خون کے سرخ خلیات سازی میں فولاد کا اہم کردار ہوتا ہے اور یہ خلیات پورے جسم میں آکسیجن پہنچاتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بچوں کو روزانہ 8 ملی گرام فولاد درکار ہوتی ہے جبکہ بلوغت کی عمر تک پہنچنے والے نوعمروں کو 11 ملی گرام فولاد کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر لڑکیوں کو 15 ملی گرام فولاد درکار ہوتا ہے کیونکہ مخصوص ایام میں فولاد کی کمی واقع ہوتی رہتی ہے۔

ڈاکٹر لارسن کی تحقیق بتاتی ہے کہ دماغی خلیات میں فولاد جمع ہوتا رہتا ہے اور اگر نہ ہوں تو اس سے ایک جانب تو کئی دماغی عارضے پیدا ہوسکتے ہیں اور ساتھ ہی اکتساب، یادداشت اور منطقی امور میں دماغی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں