صحافت کی آڑ میں دہشتگردوں، چوروں، ڈاکووں اور بلیک میلرز کا گروہ سرگرم قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان۔۔۔؟


ہماری اطلاعات اور تحقیق کے مطابق پاکستان بھر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں ویب ٹی وی چینلز کی بھر مار ہے ہر وہ انسان جو فیس بک، یو ٹیوب چلانا جانتا ہے اس نے کسی نا کسی ڈیئزائنرسے لوگو اور ویب سائٹ تیار کروا کے ویب ٹی وی چینل بنا رکھا ہے ان ویب ٹی وی چینلز کے مالکان کا طریقہ واردات یہ ہے کہ یہ مختلف شہروں میں صحافت کے خواہشمند حضرات کو نمائندگی دیکر ان سے رقم بٹورتے ہیں اور کارڈز لوگو وغیرہ وغیرہ ان نمائندگان کو دیتے ہیں۔ اور پیسوں کے چکر میں اپنے نمائندگان کی کسی بھی طرح کی کوئی ویری فیکشن نہیں کرتے۔نمائندہ منشیات فروش، چور، ڈاکو، دہشتگرد کچھ بھی ہو سکتا ہے۔اب پیسے دینے والے بھی اتنے سادہ نہیں وہ بھی ان کارڈز کا بھرپور انداز میں غلط استعمال کرتے ہیں کیونکہ ان میں زیادہ تر کریمنلز ہوتے ہیں اور اپنے تحفظ کے لیے میڈیا کا سہارا لیتے ہیں اب اس سب کے بعد جب قانون نافذ کرنے والے ادارے ایسے کرپٹ لوگوں پر ہاتھ ڈالتے ہیں تو پھر ہمیں آزادی صحافت یاد آ جاتی ہے اور ہم اپنی صفوں کی درستگی کی بجائے اپنے محافظوں کیخلاف منفی پراپگنڈہ شروع کر دیتے ہیں افسوس اور معذرت کے ساتھ ہمارے کچھ پڑھے لکھے دوست بھی اس کا حصہ بن جاتے ہیں جس وجہ سے متعددایماندار افسران کو گھر بھی جاناپڑتاہے۔ جس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ پولیس افسران و دیگر قانون نافذ کرنے والے ادراے میڈیا کا کارڈ دیکھنے کے بعد انکو پوچھتے نہیں ہیں جس وجہ سے یہ کرپٹ نام نہاد صحافی اپنے مکروہ دھندے جاری رکھتے ہیں یہ ہی سب ہمارے ملک میں صحافت جیسے مقدس پیشے سے وابستہ افراد کی جگ ہنسائی کا سبب بنتا ہے اور جب قانون نافذ کرنے والے ادارے کاروائی کرتے ہیں تو افسوس کے ساتھ وہ پڑھے لکھے محنتی ایماندار صحافیوں کو بھی کرپٹ،بلیک میلرز اور نام نہاد صحافیوں کی نگاہ سے دیکھتے ہیں تو یہی لمحہ انتہائی دردناک ہوتاہے


اب کچھ بات ہو جائے ان ویب ٹی وی چینلز اور ان کے مالکان کے بارے میں، سٹی اے آر نیوز، بی بی سی پاکستان نیوز، ایشیاء، ایشین، ۱۱نیوز، ۱۷ نیوز، ۶۳ نیوز، زیڈ۲۴نیوز، برکت ٹی وی، بی بی سی ۱۱ ہیڈلائن نیوز، بی بی سی اردو ٹی وی، جی ایم الیون نیوز پاکستان، سھارانیوز، چولستان نیوز، کھوتا نیوز، بکری نیوز وغیرہ وغیرہ جن کے مالکان میں سے کوئی انٹر میں فیل ہے تو کوئی میٹرک میں، کوئی بس کنڈیکٹر تھا تو کسی نے اپنا کالا دھن چھپانے کے لیے یہ کام شروع کردیا۔کسی کو تو نیوز کے سپیلنگ بھی نہیں آتے،اور کچھ کو تو یہ بھی نہیں معلوم کہ نیوز کن الفاظ کا مجموعہ ہے، چاہیے تو یہ کہ پہلے پیمرا یا پھر پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ سے اجازت لی جائے۔ اگر یہ نہیں کر سکتے تو کوئی بزنس فرم رجسٹر کروائی جائے اسکا لو گو ٹریڈ مارک کاپی رائٹ کروایا جائے این ٹی این بنوا یا جائے۔ لیکن بھائی ہم ایسا کیوں کریں گئے ہمارے پاس تو ایک ہی جواب ہے ویب ٹی وی چینل کا کوئی لائسنس نہیں ہوتا۔اور اگر یہ سب بھی نہیں کر سکتے تو کم از کم ویب چینل بنانے والے تعلیمی میعار پر تو پورا اتریں کیونکہ کسی بھی ٹی وی چینل یا اخبار کا لائسنس لینے کے لیے حکومت پاکستان کی جانب سے ایم اے ماس کمیونیکیشن، ایم اے جرنلزم، یا ایم اے پولیٹکل سائنس کی شرط رکھی گئی ہے۔ ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے کی بجائے کم از کم تعلیمی میعار والی ایک شرط پر ہی عملدرآمد کروا لیں تو نا صرف انکی اور صحافیوں کی عزت بحال ہو سکتی ہے بلکہ اداروں کے درمیان اچھے تعلقات بھی قائم ہو سکتے ہیں امید کرتا ہوں کہ میرے صحافی بھائی بھی اپنی صفوں سے ایسے کرپٹ نام نہاد صحافیوں کو نکالنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ساتھ دینگئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں